5 ہزار 310 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہ و پنشن میں‌ 10 فیصد اضاف

0

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئندہ مالی سال 18-2017 کا 47 کھرب 50 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔

واضح رہے کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) نے پہلی مرتبہ اپنے دورِ حکومت کا پانچواں بجٹ پیش کیا۔

اس سے قبل اس بجٹ کی وفاقی کابینہ سے منظوری لی گئی۔

بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک منتخب وزیراعظم اور وزیر خزانہ پانچویں بار بجٹ پیش کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مختصر طور پر پچھلے 4 سال کا احوال بتانا چاہتا ہوں، 2013 میں ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، مالی خسارہ 8 فیصد سے بڑھ چکا تھا، توانائی کا بحران حد سے زیادہ تھا، جبکہ جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.3 فیصد ہے جو پچھلے 10 سال میں ترقی کی بلند ترین شرح ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’گذشتہ ادوار میں بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی معیشت کو غیر مستحکم قرار دیا جاچکا تھا، عالمی بینک پاکستان کے ساتھ کام کرنے سے گریزاں تھا، آج پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور پاکستان 2030 تک دنیا کی 20 بڑی اقتصادی طاقتوں میں شامل ہوجائے گا۔‘

وزیر خزانہ نے کہا کہ ’اس سال مشینری کی درآمد میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، صنعتوں کے لیے لوڈ شیڈنگ نہیں کی جارہی، گھریلو صارفین کے لیے بھی لوڈ شیڈنگ کم ہوئی، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2016 تک اصلاحاتی کام مکمل کرلیا ہے، دنیا کی بڑی ریٹنگ ایجنسیز نے پاکستان کی ریٹنگ بہتر کی ہے، جبکہ عالمی برادری کا ہم پر معاشی اعتبار مضبوط ہوا ہے۔‘

انہوں نے ایک بار پھر اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ برس ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوجائے گا۔

حکومتی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ ’حال ہی میں ہم نے اوپن گورنمنٹ پارٹنر شپ (او جی پی) پر دستخط کیے، جس کے لیے ایک خاص معیار پر پورا اترنا پڑتا ہے، جو شفافیت کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے۔‘

پاکستانی معیشت کی تیز رفتار ترقی کے ذکر پر اپوزیشن نے ’جھوٹ ہے جھوٹ ہے‘ کے نعرے لگائے اور شور شرابہ کیا۔

ٹیکس ریونیو کا کل ہدف 43 کھرب روپے سے زائد رکھا گیا ہے جس میں سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) 400 کھرب روپے سے زائد اکٹھا کرے گا۔

آئندہ مالی سال کے دوران ترقیاتی اخراجات پر ایک ہزار ایک ارب روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔

ملک کا دفاعی بجٹ 9 کھرب 20 ارب روپے کا ہوگا۔

زراعت، چھوٹی اور درمیانی انٹرپرائزوں اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ٹیکس میں چھوٹ دی جائے گی۔

2018 کی گرمیوں تک قومی دھارے میں مزید 10 ہزار میگاواٹ بجلی کا اضافہ کیا جائے گا جس سے لوڈ شیڈنگ کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہونے والے 55 لاکھ افراد کیلئے121 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب 17 فیصد ہوگا۔

افراط زر کی شرح 6 فیصد سے کم ہوگی۔

بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.1 فیصد ہوگا۔

ٹیکس میں اضافہ جی ڈی پی کے 13.7 فیصد کے تناسب سے ہوگا۔

ایف بی آر کے محاصل میں 14 فیصد جبکہ وفاقی اخراجات میں 11 فیصد تک اضافہ ہوگا۔

وفاقی حکومت کی غیر محصولاتی وصولیاں 7 فیصد بڑھائیں گے۔

موجودہ اخراجات کو قابو میں رکھا جائے گا۔

زرمبادلہ کے ذخائر کو 4 ماہ کی درآمدات کے برابر رکھا جائے گا۔

نیٹ پبلک ڈیٹ کو جی ڈی پی کی شرح کے 60 فیصد تک محدود رکھا جائے گا۔

آئندہ مالی سال کے لیے کل اخراجات کا تخمینہ 4 ہزار 753 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بجٹ خسارہ 4.1 فیصد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مجموعی مالی محصولات کا تخمینہ 5 ہزار 310 ارب روپے لگایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ زرعی قرضوں کا حجم ترقیاتی حجم کے برابر کردیا گیا، فی کسان 50 ہزار روپے تک قرضہ دیا جائے گا، جبکہ زرعی مشینری پر کسٹم ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس ختم کی جارہی ہے۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل، چمڑے اور دیگر سیکٹرز کے لیے زیرو ریٹڈ اسکیم جاری رکھی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کہ صنعت کو فروغ دینے کے لیے کپاس ہیج کی تجارت متعارف کرائی جائے گی، جبکہ برانڈ ڈویلپمنٹ فنڈ بھی قائم کیا جائے گا۔

خام مال پر کسٹم ڈیوٹی ختم کردی جائے گی۔

وفاقی حکومت نے تعلیم کے لیے بجٹ میں 6.1 فیصد کا اضافہ تجویز کیا ہے، جو کہ 73 کروڑ 90 لاکھ روپے بنتا ہے۔

مختص بجٹ میں پری پرائمری اور پرائمری تعلیم کے میدان میں 8 ارب 74 کروڑ 80 لاکھ روپے خرچ کیے جائیں گے۔

سیکنڈری ایجوکیشن کی بہتری کے لیے 10 ارب 79 کروڑ 80 لاکھ مختص کیے گئے ہیں۔

انتظامی امور ایک ارب 28 کروڑ 60 لاکھ روپے جبکہ تعلیمی خدمات کے لیے ایک ارب 28 کروڑ 60 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: تعلیم اور صحت کے بجٹ بھی بڑھ گئے

وفاقی نے صحت کے لیے بجٹ 18-2017 میں 12 ارب 84 کروڑ 70 لاکھ روپے تجویز کیے ہیں۔

سرکاری ہسپتالوں کی خدمات کے لیے 2 کروڑ 90 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ پبلک ہیلتھ سروسز کی مد میں 43 کروڑ 90 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

ہسپتالوں میں آلات کی فراہمی کے لیے 2 کروڑ 90 لاکھ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

گھر بنانے کیلئے حکومت 10 لاکھ روپے تک کے قرضوں پر 40 فیصد گارنٹی دے گی۔

پاکستان ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کیا جائے گا۔

پاکستان انفراسٹرکچر بینک قائم کی جائے گی جو نجی انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے قرضے فراہم کرے گی۔

اگلے سال تک لوڈ شیڈنگ تاریخ کا حصہ بن جائے گی۔

توانائی کے منصوبوں کیلئے 401 ارب روہے مختص کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں تمام منصوبوں کو ساڑھے 12 ارب روپے ملیں گے۔

داسو پراجیکٹ کیلئے 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

ایل این جی کے منصوبوں کو 70 ارب روپے ملیں گے۔

دیامر بھاشا ڈیم کو 21 ارب روپے جبکہ نیلم جہلم کو 19 ارب روپے ملیں گے۔

تربیلا فور منصوبے کو 16.4 ارب روپے جبکہ جامشورو پلانٹ کو 16.2 ارب روپے ملیں گے۔

مٹیاری سے لاہور تک ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لائن تعمیر کی جائیں گی۔

جنوبی کوریا کی مدد سے ایک انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک بنایا گیا ہے۔

نئی آئی ٹی کمپنیوں کو تین سال تک ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی۔

گلگت اور فاٹا میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی برآمدات پر ٹیکس کی چھوٹ دی جائے گی۔

موبائل فونز پر ودہولڈنگ ٹیکس کو کم کر کے 14 فیصد تک کردیا جائے گا اور اسمارٹ فون پر کسٹم ڈیوٹی کم کر کے فی سیٹ 650 روپے تک کردیا جائے گا۔

مائیکرو فنانس ادارے کم آمدنی والے افراد کو قرضے فراہم کریں گے جن کی کل مالیت 8 ارب روپے ہوگی۔

بغیر برانچ کی بینکنگ پر ودہولڈنگ ٹیکس ختم کردیا جائے گا۔

ایس ایم ایز کو خطرے کی تخفیف کی سہولت کے ذریعے قرضوں تک آسان رسائی دی جائے گی، جسے اسٹیٹ بینک کی جانب سے ساڑھے 3 ارب روپے کا تحفظ حاصل ہوگا۔

وفاقی بجٹ میں کم سے کم معاوضہ 15ہزار روپے کرنے کا اعلان کیا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برش بجٹ میں کم سے کم معاوضہ 14 ہزار روپے مقرر کیا گیا تھا۔

گزشتہ برسوں میں وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں ہر سال ایک ہزار روپے اضافہ کیا جاتا رہا ہے۔

2013 میں جس وقت مسلم لیگ کی حکومت بنی تھی اس وقت کم سے کم معاوضہ 10 ہزار روپے تھا۔

وفای وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے فوجی افسران اور جوانوں کے لیے تنخواہوں میں اسپیشل 10 فیصد اضافہ کا اعلان بھی کیا۔

علاوہ ازیں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی 10 فیصد اضافے کی نوید سنائی۔

سرکاری خدمات ادا کرکے ریٹائرڈ ہو جانے والے ملازمین کی پینشن میں 10فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

وفاقی ترقیاتی اخراجات میں 37 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے۔

توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں کو پی ایس ڈی پی بجٹ کا 67 فیصد حصہ حاصل ہوگا، جس کے لیے 411 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

حکومت ڈیمز کی تعمیر اور پانی کی تقسیم کے انفراسٹرکچر میں بہتری پر توجہ دے رہی ہے۔

آئندہ مالی سال کے لیے اس سلسلے میں 38 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

نیشنل ہائی ویز کیلئے 320 ارب روہے مختص کیے جائیں گے۔

ریلوے کیلئے 45.9 ارب روپے مختص کیے جائیں گے جس میں 75 نئے انجن، 830 بوگیاں اور 250 کوچز کے ساتھ ساتھ پشاور سے کراچی تک ریلوے لائن بچھانا بھی شامل ہے۔

ہائر ایجوکیشن کیلئے 37.6 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

صحت کے منصوبوں کو 49 ارب روپے ملیں گے۔

ہسپتالوں کو 10 ارب روپے ملیں گے۔

صاف پانی کی فراہمی کیلئے ساڑھے 12 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کیلئے 30 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

ایک نئے ایئرپورٹ، 200 بستر کے ہسپتال اور کھارا پانی صاف کرنے کے پلانٹس کی تنصیب سمیت مجموعی طور پر 31 نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

پاک چین اقتصادی راہدری منصوبوں کیلئے 180 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا کے منصوبوں کیلئے 45.6 ارب روہے مختص کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: دفاع کے بجٹ میں 7 فیصد اضافہ

صوبوں کو 2 ہزار 384 ارب روپے دیے جائیں گے۔

ملک کا دفاعی بجٹ 920 ارب روپے ہوگا۔

پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کیلئے ایک ہزار ایک ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اخراجات کے باوجود بچٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4.02 فیصد تک محدود کردیا گیا ہے۔

کارپوریٹ شعبے کو 30 فیصد موثر کارپوریٹ ٹیکس ریٹ کی بدولت ریلیف ملے گا۔

اسلامی بینکوں پر وہی ٹیکس لاگو ہوں گے جو کمرشل بینک پر لاگو ہیں۔

نئی کار رجسٹریشن پر تین نچلی سطح کی کیٹیگری کیلئے ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔

سیمنٹ ایف ای ڈی کو ایک روپے فی کلو گرام سے بڑھا کر 1.25 فی کلوگرام کردیا جائے گا۔

کپڑوں کی تجارتی درآمدات پر 6 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔

اسٹیل کے شعبے میں موجودہ 9 فیصد کے مقابلے میں 10.5 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا۔

Share.

About Author

Leave A Reply