گیم کھیلتے کھیلتے آنکھ کی بینائی چلی گئی

0

جنوبی چین میں ایک لڑکی ہفتہ بھر متنازع موبائل فون گیم کھیلنے کی وجہ سے ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہوگئی ہے۔ یہ واقعہ گوانگ ڈونگ صوبے کے شہر ڈونگ گوان میں پیش آیا جہاں 21 سالہ لڑکی پورے ویک اینڈ پر گیم کھیلتی رہی یہاں تک کہ ان کی دائیں آنکھ کی بینائی ہی چلی گئی۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آنکھ پر آنے والے شدید دباؤ کی وجہ سے لڑکی کے پردہ بصارت کی ایک شریان بند ہوئی ہے۔ لڑکی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، البتہ اس نے تسلیم کیا ہے کہ وہ مسلسل سات سے آٹھ گھنٹے تک یہ کھیل کھیلا کرتی تھی۔

اس کھیل کا نام ‘ارینا آف ویلر’ (Arena of Valor) ہے، جسے آنر آف کنگز (Honour of Kings) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چین میں بہت مقبول ہے اور جلد امریکا اور یورپ میں بھی پیش ہونے والا ہے۔ اس کے بنانے والے ادارے نے ننٹینڈو (Nintendo) کے سوئچ کونسول پر بھی گیم جاری کرنے کے لیے ایک معاہدے کیا ہے جس کے بعد یہ گیم دنیا بھر میں کھیلا جا سکے گا۔

یہ ایک ملٹی پلیئر گیم ہے، جس میں پانچ کھلاڑی ایک خیالی سرزمین پر قبضے کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ کھیل مفت کھیلا جا سکتا ہے البتہ اضافی فیچرز خریدنے کی سہولت موجود ہے۔

یہ واقعہ چند دیگر واقعات کے بعد پیش آيا ہے۔ جون میں شین چین میں ایک بچے نے اس گیم کے ایڈ-آنز خریدنے کے لیے اپنے والدین کے 30 ہزار یوآن (تقریباً پونے پانچ لاکھ پاکستانی روپے) چرائے تھے ۔ مشرقی چی جیانگ صوبے کے شہر ہانگ چو کا 13 سالہ بچہ اس وقت شدید زخمی ہو گیا تھا، جب وہ باپ سے بچنے کے لیے پانچویں منزل سے کود گیا تھا، جو اسے گیم کھیلنے سے روکنا چاہتا تھا۔ اس سے قبل اپریل میں ایک 17 سالہ لڑکا مسلسل 40 گھنٹے یہ گیم کھیلنے کے بعد ہسپتال لایا گیا کیونکہ اسے دورہ پڑا تھا۔

قومی ذرائع ابلاغ اس گیم کو “برقی ہیروئن” قرار دے رہے ہیں جو نوعمر ذہنوں کو “زہر آلود” کر رہا ہے ۔ اعداد و شمار کے مطابق اس کھیل کے 26 فیصد کھلاڑیوں کی عمریں 19 سال سے کم ہیں ۔ یہاں تک کہ اس کھیل کا ‘نشہ’ فوج تک پھیل چکا ہے ۔ فوج کے ترجمان اخبار ‘پی ایل اے ڈیلی’ کے مطابق اب تک دو انتباہ جاری کیے جاچکے ہیں کیونکہ فوجی اس کھیل میں اتنے مگن نظر آتے ہیں کہ ان کی جنگ کے لیے تیاری متاثر ہو رہی ہے۔

حکومت کے دباؤ کے بعد 4 جولائی کو ٹین سینٹ نے 12 سال سے کم عمر بچوں کے لیے دن میں ایک گھنٹہ سے زیادہ کھیلنے پر پابندی لگائی تھی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ بچے والدین کے شناختی کارڈز پر رجسٹر ہوکر یا بلیک مارکیٹ سے شناختی کارڈ خرید کر اس “سخت ترین نظام” کو توڑ رہے ہیں ۔

ایک ایسے ملک میں جہاں 60 فیصد آبادی کے پاس اسمارٹ فون ہو، یہ گیم بہت کامیاب جا رہا ہے، کیونکہ اسے کھیلنا مفت ہے ۔ لیکن لت کسی بھی چیز کا ہو، بہت برا ہوتی ہے اور اس طرح کے واقعات یہ بات ثابت کرتے ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply