کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر دہشت گردوں کا حملہ، 12 اہلکار زخمی

0


IMG { filter: alpha(opacity=100)!important; }

سریاب میں واقع پولیس ٹریننگ سینٹر پر 5 سے 6 دہشت گردوں نے مین ہاسٹل پر حملہ کیا، ترجمان پاک فوج، فوٹو؛ ایکسپریس

کوئٹہ: سریاب روڈ پر پولیس ٹریننگ سینٹر پر دہشت گردوں نے حملہ کردیا اور ہاسٹل میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کےبعد فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان مقابلہ جاری ہے جب کہ اس دوران اب تک 17 اہلکار زخمی ہوگئے ہیں جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب میں واقع پولیس ٹریننگ سینٹر پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کردیا اور سینٹر میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کردی جب کہ مسلح افراد ہاسٹل کی طرف چلے گئے۔ پولیس حکام نے ٹریننگ سینٹر پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سینٹر پر 5 سے 6 دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے اور فائرنگ کرتے ہوئے ہاسٹل کی جانب گئے ہیں، حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے سینٹر میں داخل ہوئے اور اس دوران سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں نے بھی فائرنگ کردی جس کے بعد دو طرفہ فائرنگ کا سلسہ شروع ہوگیا۔ پولیس حکام کے مطابق ٹریننگ سینٹر کے نیو ہاسٹل پر حملہ کیا گیا ہے جہاں 200 سے 250 اہلکار زیر تربیت ہیں۔

فائرنگ کی اطلاعات ملتے ہی فورسز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور سینٹر کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے جب کہ پولیس کمانڈوز اور ایف سی کے اہلکار ٹریننگ سینٹر میں داخل ہوگئے ہیں جن کا دہشت گردوں سے مقابلہ جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے دوران سینٹر میں زور دار دھماکا بھی ہوا ہے جس کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے۔

صوبائی حکومت نے ٹریننگ سینٹر پر فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی شہر بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی ہے جب کہ شہر سے مزید پولیس کی نفری کو فوری طور پر ٹریننگ سینٹر طلب کرلیا گیا ہے۔ فورسز نے ٹریننگ سینٹر کے اطراف کے علاقوں کو بھی سیل کردیا اور علاقے میں ٹریفک کو بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔

اسپتال ذرائع کے مطابق اب تک 17 زخمیوں کو سول اسپتال لایا گیا ہے جن میں سے بیشتر زخمیوں کو ٹانگوں پر گولیاں لگی ہیں جب کہ ایک زخمی کی حالت تشویشناک ہے جسے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سینٹر کے مین ہاسٹل پر 5 سے 6 دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے جس کے بعد فوری طور پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا گیا ہے، ایف سی اور پاک فوج کے دستوں نے عمارت کو گھیرے میں لے کر پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف فوری طور پر آپریشن شروع کردیا گیا ہے اور شہر بھر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ڈاکٹروں کو طلب کرلیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری نے ٹریننگ سینٹر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی بلوچستان اور ڈی آئی جی کوئٹہ سے رابطہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے آئی جی پولیس کو دہشت گردوں کے خلاف بھرپورکارروائی اور زیر تربیت اہلکاروں کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ رات 11 بجے کے قریب دہشت گردوں نے ٹریننگ سینٹر پر حملہ کیا، ٹریننگ سینٹر کوئٹہ شہر سے دور دیہی علاقے میں ہے جہاں سناٹے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد سینٹر کے پچھلے گیٹ سے داخل ہوئے جو پہاڑی علاقے میں واقع ہے۔ ثنااللہ زہری نے کہا کہ اس طرح کے حملے کی 3 سے 4 دن پہلے انٹیلی جنس اطلاعات تھیں، کوئٹہ شہر میں دہشت گردوں کے داخل ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جس کے باعث صوبے بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ تھا لیکن دہشت گرد کوئٹہ شہر میں کارروائی کرنے میں ناکام ہوئے ہیں جس کے بعد انہوں نے سینٹر پر حملے کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں سے نمٹ لیں گے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔

دوسری جانب وزیراعظم نوازشریف نے کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سینٹر میں موجود زیرتربیت اہلکاروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور دہشت گردوں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے جب کہ حملے میں زخمی ہونے والوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply