پاک افغان سرحد کے ’متنازع‘ حصوں پر باڑ نہ لگانے کا فیصلہ !

0

اپریل 5, 2017
اہم ترین

اپنی رائے دیجئے


22

پاکستان کا کہنا ہے کہ ڈیورنڈ لائن پرافغانستان کی جانب سے ‘متنازع’ سمجھے جانے والے حصوں پر ابھی باڑ لگانے کا کام شروع نہیں کیا گیا ہے، تاہم پہلے مرحلے میں’چھ سے آٹھ کراسنگ پوائنٹس’ پر سرحدی باڑ نصب کی جا رہی ہے۔ یہ بات بدھ کو اسلام آباد میں حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے اویس لغاری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے اِن کیمرہ اجلاس کو بتائی گئی۔ نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق اجلاس کے بعد چیئرمین کمیٹی نے میڈیا کو بتایا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر باڑ لگانے کے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا، ‘سرحدی امور کے حوالے سے بین الاقوامی ادارے بھی پاکستان کی مدد کر رہے ہیں۔’ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بائیو میٹرک کے ذریعے افغان پناہ گزین کی آمدورفت میں آسانی فراہم کی جائےگی۔ خیال رہے کہ ڈیورنڈ لائن کے نام سے منسوب پاک افغان سرحد تقریباً 2400 کلومیٹر پر مشتمل ایک طویل سرحد ہے۔ اس اجلاس میں وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اویس لغاری کے مطابق سرتاج عزیز نے بریفنگ میں کہا ہے کہ پاکستان کی افغانستان سے متعلق پالیسی درست سمت میں جارہی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک افغان سرحدی علاقوں کے دورے کے دوران کہا تھا کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا عمل شروع ہوچکا ہے اور مہمند اور باجوڑ ایجنیسوں کے سرحدی علاقوں کو زیادہ خطرات کا سامنا کرنے کی وجہ سے انتہائی ترجیح دی جارہی ہے۔ اویس لغاری کے مطابق سرتاج عزیز نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل عسکری نہیں ہے۔ ’ان کے مطابق وہ طالبان جنھوں نے خطے میں شدت پسند تنظیم داعش کو خوش آمدید نہیں کہا، انہیں مرکزی دھارے میں لانا چاہیے۔’

پاک افغان سرحد
حکومت پاکستان نے افغانستان سے نصراللہ گروپ اور جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

اِن کیمرہ بریفنگ کے دوران افغانستان میں قیام امن کے لیے رواں ماہ ماسکو میں منعقد ہونے والے کثیرالملکی امن مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ارکان نے اتفاق کیا کہ مذاکراتی عمل زندہ رہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ماسکو مذاکرات سے امریکہ کو افغان پالیسی پر نظرثانی میں مدد ملے گی۔’ اس سوال پر کہ افغان حکام پاکستان پر دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کا الزام کیوں لگا رہے ہیں، اویس لغاری نے کہا کہ ‘پاکستان کسی بھی سطح پر ریاستی دہشتگردی میں معاونت نہیں کر رہا، افغانستان اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کے بجائے الزام تراشی کا سہارا لیتا رہا ہے، جبکہ پاکستان اس کھیل کا حصہ ہرگز نہیں بنے گا۔’ اویس لغاری کے مطابق اجلاس کے دوران کمیٹی کے ارکان نے مشیر خارجہ اور سیکریٹری خارجہ سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ‘افغان عوام کی سوچ بدلنے میں بری طرح ناکام ہوا ہے، تمام تر قربانیوں اور تعاون کے باوجود افغان عوام کا تاثر نہیں بدلا جا سکا ہے۔’ اویس لغاری کے مطابق مشیر خارجہ نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ حکومت پاکستان نے افغانستان سے نصراللہ گروپ اور جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ملک میں دہشت گردی کے حالیہ حملوں کے بعد پاکستان نے الزام لگایا تھا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی افغانستان سے کی جا رہی ہے، اور پاکستان میں تخریب کاری کرنے والے گروہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں:۔



2017-04-05

Share.

About Author

Leave A Reply