نواز شریف اور عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں، بلاول بھٹو زرداری

0

ملک کو اس وقت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے لیکن حکمرانوں میں وہ اہلیت نہیں کہ وہ ان کا مقابلہ کر سکیں، بلاول بھٹو۔ فوٹو: فائل

پشاور: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں اور ان دونوں کی سوچ  اور پالیسی ایک ہی ہے۔

پشاور میں افطار ڈنر پر کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف اورچیرمین تحریک انصاف عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار ہیں اور دونوں کی سوچ اور پالیسی بھی ایک جیسی ہے، نواز شریف کی طرح عمران خان کے دعوے بھی جھوٹے ہیں، کہاں گئے ان کی ترقی اور تبدیلی کے دعوے، ان کی تبدیلی صرف ٹوئیٹر تک محدود ہے اور وہ ڈھول بجائے جا رہے ہیں کہ ہر طرف انصاف کا بول بالا ہے جبکہ میاں صاحب کہتے ہیں کہ ملک میں ترقی ہو رہی ہے، انہیں کہنا چاہتا ہوں کہ ترقی ملک میں نہیں آپ کے بینک اکاؤنٹ میں ہو رہی ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں :دیکھتے ہیں تخت رائیونڈ کا احتساب ہوتا ہے یا نہیں

چیرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ فاٹا اصلاحات نیشنل ایکشن پلان کا حصہ تھا لیکن فاٹا اصلاحات کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، خیبر پختونخوا اور فاٹا کے عوام نے قربانیاں دی ہیں لیکن میاں صاحب خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں، سی پیک آصف زرداری کا ویژن اور یہ پسماندہ علاقوں کے لیے تھا، اس سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو زیادہ حصہ دینا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول کے شہداء کے والدین آج بھی انصاف کے طلبگار ہیں، اب ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آرمی پبلک اسکول حملے کی جوڈیشل انکوائری کی جائے جبکہ مشال خان کے والد بھی انصاف چاہتے ہیں لیکن صوبائی حکومت مرکزی ملزموں کو گرفتار نہیں کر رہی، ملک کو اس وقت بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جبکہ حکمرانوں میں وہ اہلیت اور صلاحیت نہیں کہ وہ ان چیلنجز کا مقابلہ کر سکیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں :نوازشریف نے ہی ملک کو اندھیرے میں دھکیلا

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آج لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے عوام ٹھیک سے سحر کر سکتے ہیں نہ ہی آرام سے افطار، صرف لوڈشیڈنگ کی وجہ سے آپ عوام کو چور کہتے ہیں، چور تو آپ ہیں کیونکہ آپ کی چوری پکڑی جا چکی ہے، آج جے آئی ٹی کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں، آپ کا آج سے پہلے کبھی احتساب نہیں ہوا، آپ کا احتساب تو اب ہو گا جو تاریخ کا انتقام ہے، آپ کو جواب دینا ہوگا۔

Share.

About Author

Leave A Reply