میاں صاحب تھک گئے ہیں انہیں مزید تھکا کر ہرائیں گے، آصف زرداری

0

18ویں ترمیم کے بعد آئی جی کی تعیناتی صوبے کا حق ہے اگر اے ڈی خواجہ اچھے افسر ہیں تو کیا دوسرے برے ہیں، سابق صدر فوٹو: فائل

 اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کافی تھک چکے ہیں اور انہیں ہیرو نہیں بننے دینا بلکہ مزید تھکا کر ہرانا ہے۔

آصف علی زرداری کا ایک انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ ہم دھرنے نہیں دیں گے مسلم لیگ (ن) کو سیاسی شکست دیں گے، میاں صاحب کافی تھک چکے انہیں مزید تھکا کرہرانا ہے اور انہیں ہیرو نہیں بننے دینا، میاں صاحب مشکل میں نہیں ہوتے تو رابطہ نہیں کرتے، موجودہ حالات میں اگر نوازشریف سے ملاقات کی تو کہا جائے گا کہ ڈیل کرلی اور کارکن مایوس ہونگے، اگر مسلم لیگ (ن) سے ڈیل ہی کرنا ہوتی تو 13 سال جیل نہ کاٹتا۔ انہوں نے کہا کہ میرے اگلے جلسے میں گو نواز گو کا نعرہ لگے گا، آئندہ انتخابات میں کامیابی پر وزیراعظم کون بنے گا اس کا فیصلہ پارٹی اور اس کے چیئرمین کرینگے جب کہ صدر مملکت نہیں بنوں گا بلکہ پارٹی کے کسی اور امیدوار کو صدر بنایا جائے گا۔

پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ میرے لوگوں کو پولیس نہیں کوئی اوراٹھارہا ہے جولوگ میری طرف آنا چاہ رہے ہیں انہیں ڈرایا اور دھمکایا جارہا ہے جب کہ میرے دور حکومت میں سویلین کو ہاتھ نہیں لگایا جاتا تھا اور میرے کتنے بھی لوگ اغوا ہوجائیں مجھے فرق نہیں پڑتا۔ آئی جی سندھ کی تبدیلی کے حوالے سے آصف زرداری نے کہا کہ اے ڈی خواجہ اچھے افسر ہیں تو کیا دوسرے برے ہیں اور حکومت سندھ اپنا آئی جی کیوں نہیں لگاسکتی کئی مرتبہ آئی جی اسلام آباد اورآئی جی پنجاب تبدیل ہوئے ہیں جب کہ 18ویں ترمیم کے بعد آئی جی کی تعیناتی صوبے کا حق ہے۔

آصف زرداری کا کہنا تھا کہ آئندہ انتخابات سے قبل ابھی سے وفاقی حکومت نے دھاندلی شروع کردی ہے وفاقی حکومت نے کراچی کے لیے کیا دیا ہے انہوں نے جو کچھ دیا مجھے نظر نہیں آرہا اور کہا جاتا ہے کہ ہم نے سندھ میں کوئی کام نہیں کیا اگرہم نےسندھ میں کام نہیں کیا توہمیں کیوں ووٹ ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف بتائیں پنجاب میں کتنی بجلی پیدا کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ 2018 تک لوڈشیڈنگ ختم کردیں گے ایسا ہو ہی نہیں سکتا وہ پراجیکٹ خود لگاتے ہیں اوردوستوں کو لگا کردیتے ہیں جب کہ میرا اپنا تعمیرات کا کام ہے، زمین میری ہوتی ہے کنسٹرکشن کوئی اورکرتا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply