معروف ادیب محمد علی چراغ انتقال کر گئے !

0

مئی 12, 2017
اہم ترین

اپنی رائے دیجئے

2

لاہور۔ معروف ادیب محمد علی چراغ انتقال کر گئے جنہیں شاہ کمال قبرستان رحمان پورہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق محمد علی چراغ کچھ دنوں سے عارضہ قلب کے باعث شیخ زید ہسپتال میں زیر علاج تھے جہاں ان کا علاج معالجہ جاری تھا لیکن وہ صحت یاب نہ ہوسکے اور 74سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جاملے،مرحوم کو شاہ کمال قبرستان رحمان پورہ میں سپرد خاک کیا گیا ان کی نماز جنازہ کرم آباد کے مقامی پارک میں ادا کی گئی جبکہ مرحوم کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ میں  خالد محمود ،مجیب الرحمن شامی ، پروفیسر احمد سعید ،ڈاکٹر شفیق جالندھری ، راجہ اسد علی خاں ، خالد ہمایوں، خالد یزدانی، تنویر ظہور، امجد علوی، شاہد علی خاں، ایم۔پی۔اے میاں اسلم اقبال اور سینکڑوں کی تعداد میں مرحوم کے عزیزاور دوست شریک تھے۔ محمد علی چراغ نے اپنے شاندار علمی، ادبی کیریئر میں مختلف اداروں میں خدمات سر انجام دیں جن میں نیشنل بک سنٹر، نیشنل بک کونسل آف پاکستان ، نیشنل بک فاونڈیشن شامل ہیں ۔وہ ان دنوں مولانا ظفر علی خاں ٹرسٹ میں بحیثیت ریسرچ آفیسر خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ وہ بچوں کے مشہور رسالے تعلیم و تربیت کے بھی ایڈیٹر رہے ،اس کے علاوہ ا نہوں نے 45کے قریب کتابیں لکھیں جنہیں بڑے اشاعتی اداروں نے شائع کیا ۔ محمد علی چراغ نے پی۔ٹی۔وی اور ریڈیو پاکستان کے لیے بھی ڈرامے لکھے ۔ انہیں بعض بڑی اور قد آور شخصیات کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جن میں قدرت اللہ شہاب ، ابن انشا،ممتاز مفتی ، اشفاق احمد ، سید قاسم محمود ، فہمیدہ ریاض ، احمد فراز،ابوالحسن نغمی اور یونیسکو کے عہدےدار بھی شامل ہیں ۔

محمد علی چراغ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور انہوں نے صحافت اور پنجابی میں ماسٹر ڈگری پنجاب یونیورسٹی سے حاصل کر رکھی تھی۔محمد علی چراغ کے والد حاجی چراغ دین بھی معروف ادیب اور شاعر تھے ۔مولانا ظفر علی خاں ٹرسٹ کے چیئرمین خالد محمود ، خازن جناب مجیب الرحمن شامی نے محمد علی چراغ کے انتقال کو ادب اور تحقیق کے شعبے میں ایک سانحہ قرار دیا ہے۔ظفرعلی خاں ٹرسٹ کے لیے ان کی گراں قد ر خدمات کو سیکرٹری ٹرسٹ راجہ اسد علی خاں نے شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے دریں اثناءمحمد علی چراغ کے انتقال پر ملک کے علمی اور ادبی حلقوں نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔مرحوم محمد علی چراغ نے اپنے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور ایک بیوہ چھوڑی ہیں۔واضح رہے کہ آج سے دو سال قبل محمد علی چراغ کے جواں سال اکلوتے بیٹے مسلم ٹاون کی نہر میں ڈوب کرجاں بحق ہو گئے تھے۔ محمد علی چراغ کے قل بروز ہفتہ 5بجے جامع مسجد محمدیہ کرم آباد متصل وحدت روڈ میں ادا کیے جائیں گے:۔



2017-05-12

Share.

About Author

Leave A Reply