لیگی رہنما پارٹی قیادت کے حوالے سے تذبذب کا شکار

0

حکمران جماعت پاکستانnawaz and shahbaz مسلم لیگ (ن) کے اکثر رہنما پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو پارٹی کے قائد کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض حسین نے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو پارٹی کی قیادت کرنی چاہیے۔

شریف برادران اور ان کے بچوں مریم نواز اور حمزہ شہباز کے درمیان اختلافات اُس وقت منظر عام پر آئے جب حمزہ شہباز نے اپنے خدشات کو میڈیا کے سامنے ظاہر کیا اور ان کے والد شہباز شریف اپنے بڑے بھائی نواز شریف اور بھتیجی مریم نواز کو اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی پالیسی سے روکنے میں ناکام رہے، خاص طور پر پاناما پیپرز کیس میں جہاں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

تاہم اب یہ قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں کہ شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت سنبھالنے کے لیے پس پردہ اپنی پوزیشن کو مستحکم بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

شہباز شریف نے گزشتہ روز (20 اکتوبر) کو اپنے دیرینہ دوست اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ملاقات کی، جس کے دوران پارٹی کے امور زیر بحث آئے۔

پنجاب کی صوبائی کابینہ کے رکن راجہ سرور کا کہنا ہے کہ اکثر رہنما، پارٹی کی واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے الجھن کا شکار ہیں۔

سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی ملاقات کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے کیونکہ دونوں رہنماؤں نے پاناما پیپرز کیس کا تنازع سامنے آنے کے بعد سے پارٹی پالیسی کے حوالے سے ایک ہی موقف اختیار کیا ہوا ہے۔

تاہم اس حوالے سے راجہ سرور کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور چوہدری نثار نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو فوج اور عدلیہ سے تصادم سے باز رہنے اور احتساب کا سامنا کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

نواز شریف کے قریبی ساتھی کا کہنا تھا کہ اگر عدالت عظمیٰ نواز شریف کو پارٹی صدارت سے بھی برطرف کرنے کا حکم دے دیتی تو عہدہ شہباز شریف کو نہیں دیا جاتا۔

ان کا مزید کہنا تھا اس تمام صورتحال کے پیشِ نظر مریم نواز کی جانب سے پارٹی صدر بننے کے امکانات کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے، کیونکہ آئندہ عام انتخابات کے بعد بھی شہباز شریف کا کردار صرف پنجاب تک ہی محدود ہوگا۔

اس حوالے سے وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ جماعت میں اختلافِ رائے موجود ہے لیکن پارٹی کے لیڈر ایک ہی ہیں اور وہ ہیں نواز شریف، ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کبھی شہباز شریف سے یہ سوال کیا گیا کہ وہ پارٹی کی صدارت کرنا چاہتے ہیں؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پارٹی پر صدارت کے بدلنے کا وقت آیا تو شہباز شریف ہی پارٹی کے تمام امور کو سنبھالیں گے کیونکہ نواز شریف کے بعد وہی سب سے سینیئر رکن ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply