لاہورسیف سٹی منصوبہ اسلام آباد چار گنا بڑا ہے،شہبازشریف

0

وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ لاہور سیف سٹی منصوبہ اسلام آباد سیف سٹی منصوبہ سے چار گنا بڑا ہے۔ اسلام آباد سیف سٹی منصوبہ چھ سال قبل سابقہ دور حکومت میں شروع ہوا اور اس پر 12 ارب روپے لاگت آئی جبکہ لاہور سیف سٹی منصوبہ پر بھی 12 ارب روپے ہی لاگت آئی ہے۔ چوہدری نثار علی خان جنہوں نے اپنی کوششوں سے اسلام آباد سیف سٹی منصوبہ میں کیمروں کی تعداد 1500 سے بڑھا کر دو ہزار کروائی۔ پنجاب میں لاہور کے علاوہ راولپنڈی، گوجرانوالہ، سرگودھا، فیصل آباد، ملتان اور بہاولپور میں سیف سٹی منصوبے دسمبر 2017ء تک مکمل کر لئے جائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ پنجاب نے سیف سٹی پراجیکٹ اتھارٹی کے دفتر میں سیف سٹی پراجیکٹ منصوبہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور سیف سٹی پراجیکٹ کا منصوبہ اسلام آباد میں شروع ہونے والے سیف سٹی پراجیکٹ منصوبہ سے چار گنا بڑا ہے۔ اسلام آباد سیف سٹی منصوبہ کے پہلے 1500 کیمرے تھے تاہم چوہدری نثار علی خان نے اس کی تعداد دو ہزار کر دی ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار نے کبھی پنجاب کو دھیلا نہیں دیا۔ اپنی کوششوں سے اسلام آباد کے منصوبہ کو دو ہزار کیمروں تک لے گئے ہیں۔ لاہور کا منصوبہ آٹھ ہزار کیمروں پر مشتمل ہے۔ آج ورلڈ اکنامک فورم نے بھی اپنی مہر ثبت کی ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کے دور میں کرپشن اور کم ہوئی ہے۔ اسلام آباد کا منصوبہ چھ سال پہلے جس حکومت کے زمانے میں لگا رہے سب جانتے ہیں لاہور کا منصوبہ اسلام آباد منصوبہ سے چار گنا بڑا ہے مگر اس وقت چھ سال بعد یہ منصوبہ 12 ارب روپے میں لگایا جا رہا ہے۔ سب سے کم بولی دینے والی کمپنی ہواوے نے 16 ارب روپے دی تھی۔ تاہم کابینہ کمیٹی نے مزید چار ارب روپے کم کروائے اسلام آباد کا منصوبہ جو چار گنا چھوٹا ہے۔ وہ 12 ارب روپے میں لگا اور لاہور کا چار گنا بڑا منصوبہ ہم نے 12 ارب میں لگایا۔ کیا یہ درست نہیں کہ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ منصوبہ کے لئے بھرتی ہونے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں میرٹ پر بھرتی ہوئے ہیں۔ ان کو تربیت دلوائی گئی۔ مزید تربیت دلوائیں گے تاکہ اس منصوبہ کا پورے پاکستان میں نام ہو اور یہ پھیلے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبہ کے ذریعے پتہ چلے گا کون بندوق لے کر نکلا ہے۔ کس گلی میں چوری ہوتی ہے۔ کس جگہ آگ لگتی ہے۔ کہیں بلوا ہوتا ہے، کہیں دہشت گرد پھر رہے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلنا چاہئے کہ اس گلی سے دھاتی ڈور نکلی ہے اس کو وہیں پکڑا جائے۔ آتش بازی کا سامان کس دکان سے بکا ہے۔ اس کو وہیں پکڑیں۔ یہ فوائد قوم کو ملنے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ منصوبہ کے لاہور میں اگلے فیز آئندہ سال مارچ تک مکمل ہو جائیں گے جبکہ چھ منصوبے راولپنڈی، گوجر خان، فیصل آباد، سرگودھا، ملتان اور بہاولپور آئندہ سال 2017ء کے آخر تک مکمل ہو جائیں گے۔ اسی طرح پنجاب کے سات بڑے شہروں میں سیف سٹی منصوبے کام کریں گے۔

Share.

About Author

Leave A Reply