قیامت خیز زلزلے کو 12 برس بیت گئے

0

اکتوبر 2005‘ کی آٹھ تاریخ کی قیامت خیز سحر کو گزرے بارہ برس بیت گئے‘ اس ہولناک دن کی یاد میں اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

آزاد کشمیر اور اسلام آباد کے مارگلہ ٹاور ز پر قائم یادگارِ شہدا پر آج خصوصی تقاریب منعقد ہورہی ہیں‘ آٹھ بجکرباون منٹ پر پر دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی‘ اس موقع پرٹریفک بھی روک دی گئی، زلزلے میں شہید ہونے والوں کے مزاروں اوریادگاروں پر شمعیں روشن کی گئیں اور پھولوں کی چادریں بھی چڑھائی گئیں۔

اکتوبر 2005 کا ہولناک زلزلہ اس قدر خوفناک قدرتی آفت تھی کہ اس سے بچ جانے والے لوگ آج بھی سکتے کے عالم میں ہیں، اس سانحے کے زخم ابھی تازہ ہیں، اس زلزلے نے کئی انسانی المیوں کو جنم اور کئی افراد کو عمر بھر کے لیے اپاہج کر دیا‘ آج بھی سسک سسک کر زندگی گزار رہے ہیں ۔

پاکستان کی تاریخ کا یہ ناقابل فراموش زلزلہ 8 اکتوبر 2005 کو صبح 8 بجکر 50 منٹ پر آیا، جب آزاد کشمیر، اسلام آباد، ایبٹ آباد، خیبرپختونخوا اور ملک کے بالائی علاقوں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی. اس کی شدت ریکٹر اسکیل پر7.6 تھی اور اس کا مرکز اسلام آباد سے 95 کلو میٹر دور اٹک اور ہزارہ ڈویژن کے درمیان تھا۔

اٹھ اکتوبر 2005 زلزلے میں تقریباً اسی ہزار سے زائد افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے، لاکھوں مکانات منہدم اور اربوں روپے کی املاک تباہ ہوگئی، اسلام آباد جیسے شہر میں مارگلہ ٹاورز کے علاوہ بہت سے دفاتر ‘ عمارات اور دکانیں اس زلزلے کی نذر ہوگئے جبکہ بالاکوٹ جیسا شہر مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔

زلزلہ متاثرین کے مطابق زلزلہ کو 12 سال گزرنے کے باوجود وہ آج بھی امدادی چیکوں کےلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، بالاکوٹ کی تعمیر مکمل نہیں ہو سکی ہے۔ کئی اسکول آج بھی تعمیر کے منتظر ہیں، کھربوں روپے کے فنڈ جاری ہوئے لیکن متاثرین آج بھی دربدر پھر رہے ہیں۔

زلزلہ متاثرین کو ریسکیو کرنے کے ساتھ ساتھ زلزلہ متاثرہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو میں باسلامی ممالک بالخصوص سعودی عرب کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا ۔ سعودی عرب کی جانب سے بالاکوٹ کے متاثرین کیلئے 4 ہزار گھروں کی تعمیر کی گئی جبکہ مظفر آباد اور باغ میں بھی 4400 گھر تعمیر کر کے زلزلہ متاثرین کو دیئے گئے ۔ مصیبت کی اس گھڑی میں یورپی اقوام بھی پیچھے نہ رہیں اور امدادی سامان کے ڈھیر لگادیے گئے اور کھربوں ڈالر اس زلزلے سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے پاکستان بھیجے گئے۔

پاکستان میں آنے والے ہولناک زلزلے


چار ستمبر 2013 کو زلزلے نے بلوچستان کے شہر آواران کو کھنڈر میں تبدیل کردیا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چار سو افراد رزقِ خاک ہوئے جبکہ سینکڑوں گھر زمین بوس ہوگئے۔

بیس جنوری 2011 کو سات عشاریہ سات کے زلزلے سے خاران لرز اٹھا، جس میں دو سو سے زائد مکانات ملیا میٹ ہوگئے.

آٹھ اکتوبر 2005 کی صبح زلزلے نے کشمیراور شمالی علاقوں میں تباہی پھیلا دی، سات اعشاریہ چھ شدت کے زلزلے سے اسی ہزار سے زائد افراد جان سے گئے جبکہ کئی شہر اور دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے، ڈھائی لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے، قیامت خیز سلسلے کے متاثرین آج بھی غم و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں.

چودہ فروری، 2004 کو ریکٹر اسکیل پر 5.7 اور 5.5 کی شدت سے آنے والے دو زلزلوں کے نتیجے میں خیبر پختونخواہ اور شمالی علاقہ جات میں چوبیس افراد ہلاک جبکہ چالیس زخمی ہو گئے تھے۔

تین اکتوبر، 2002 کو ریکٹر اسکیل پر 5.1 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے نتیجے میں پاکستان کے شمالی علاقوں میں تیس افراد ہلاک جبکہ ڈیڑھ ہزار کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

اکتیس جنوری انیس سو اکیانوے کا زلزلہ چترال میں تین سو سے زائد شہریوں کی جان لے گیا، دسمبرانیس سو چوہتر میں زلزلے نے مالاکنڈ کے دیہات تباہ کئے، سات عشارہ سات شدت کا زلزلہ پانچ ہزارسے زیادہ افراد موت کا سبب بنا۔

ستائیس نومبر انیس سو پینتالیس کو بلوچستان کے ساحل مکران میں زلزلہ سے دو ہزار لوگ ہلاک ہوئے.

تیس مئی انیس سو پینتیس کو کوئٹہ زلزلے سے مکمل تباہ ہوگیا، سات عشاریہ پانچ شدت کے جھٹکوں نے تیس ہزار افراد کو ابدی نیند سلادیا.

 

Print Friendly, PDF  Email

Share.

About Author

Leave A Reply