شریف خاندان نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیئے

0

پاناما کیس کا معاملہ حتمی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جس کے لیے سپریم میں جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد پہلی اہم ترین سماعت کچھ دیر بعد شروع ہوگی جب کہ شریف خاندان نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرادیئے۔ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے گزشتہ ہفتے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی جس میں شریف خاندان کے معلوم ذرائع آمدن اور طرز زندگی میں تضاد بتایا گیا تھا۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد عدالت نے مزید سماعت آج تک ملتوی کردی تھی۔

سپریم کورٹ میں آج اس مقدمے کی انتہائی اہم سماعت ساڑھے نو بجے شروع ہونا ہے

مسلم لیگ (ن) اس کیس پر اپنی قانونی لڑائی لڑنے کو تیار ہے جس کے لیے حکومت قانونی ماہرین سے مشاورت مکمل کرلی ہے۔ ذرائع کے مطابق شریف خاندان نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اعتراضات سپریم کورٹ میں جمع کرادیئے ہیں۔ شریف خاندان کی جانب سے دائر اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ تحقیقاتی کا رویہ غیر منصفانہ تھا اور اس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا لہٰذا عدالت جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرے۔

پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں بڑی سماعت آج ہوگی۔ پاناما کا ہنگامہ اپنے انجام کی طرف کی طرف بڑھنے لگا۔ ایک طرف کیس کے درخواست گزار جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنی اپنی تشریحات کررہے ہیں،دوسری طرف ن لیگ رپورٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا پروگرام بنا چکی ہے۔

حکومت کے حلیفوں نے رپورٹ اور جے آئی ٹی دونوں کو اڑا کر رکھ دیا ہے،پی ٹی آئی اور اپوزیشن جماعتوں نے نواز شریف کی رخصتی کی امیدیں باندھ لیں ،رپورٹ حقیقت میں کیا رنگ لائے گی اور عدالت کا حتمی فیصلہ صیغی راز میں ہے۔

سپریم کورٹ میں ایک ہفتے کے وقفے کے بعد سماعت شروع ہونے سے قبل ہی سیاسی گرما گرمی عروج پر پہنچ گئی ،وزیراعظم نوازشریف اور ان کےخاندان سمیت 34 افراد سےتحقیقات کےبعد جے آئی ٹی کی رپورٹ عام ہوئی تو اپوزیشن نےہنگامہ برپا کردیا۔

پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، ایم کیوایم ،جماعت اسلامی سمیت چھوٹی بڑی سب جماعتیں اکٹھی ہوئیں اور وزیراعظم سے مستعفیٰ ہونے کامطالبہ کیا،اس دوران اے این پی اور قومی وطن پارٹی نے اپنے اتحادیوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کرنے کا مشورہ دیدیا۔ دوسری طرف وزیراعظم اور ان کے خاندان کیخلاف جے آئی ٹی رپورٹ نےحکمران جماعت ن لیگ اور اتحادیوں کو بھی ہلاکر رکھ دیا، 10 جولائی سے اب تک کئی مشاورتی اجلاس ہوچکے ہیں اور سیاسی و قانونی جوابی حکمت عملی تیار کی جاری ہے۔

وزیراعظم نے پہلے اپنی کابینہ سے بھرپور اعتماد حاصل کر کے اپوزیشن کےاستعفیٰ کےمطالبے کو یکسرمسترد کردیا اور پھر پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلا کراپوزیشن کو اپنی سیاسی طاقت کا بھرپور مظاہرہ دکھا دیا۔

وزیراعظم نواشریف نے اس موقع پر کہا کہ ان کےکہنے پراستعفیٰ دوں جنہیں عوام نےبار بار مسترد کیا۔ دھرنوں کی صورت میں پہلے دو حملے کئے گئے تیسراحملہ بھی ناکام ہوگا۔ استعفیٰ کسی صورت نہیں دوں گا۔

دارالحکومت میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جاررہا ہے،تجزیہ کاروں کے مطابق آخری فیصلہ سیاسی اکھاڑے کی بجائے اب سپریم کورٹ میں ہی ہو گا۔

Comments

‘ہم سب’ کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا ‘ہم سب’ کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نیوز ڈیسک کی دیگر تحریریں

نیوز ڈیسک کی دیگر تحریریں

Share.

About Author

Leave A Reply