شائقینِ فن دوحہ کا پہلا انٹر گلف مشاعرہ

0

3 hours ago

دوحہ۔قطر(رپورٹ :قیصر مسعود) شائقینِ فن دوحہ کم و بیش دو دہائیوں سے قطر میں ادب و ثقافت کی ترویج و اشاعت کے لیے اپنا بھرپور اورفعال کردار ادا کر رہی ہے۔اسی ادبی و ثقافتی تنظیم کے زیرِ اہتمام قطر کی تاریخ میں اب تک ہونے والی عظیم الشان محافلِ موسیقی اپنی مثال آپ ہیں۔قطر کے سب سے بڑے ہوٹل دوحہ شیراٹن کے ’’المجلس‘‘ آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والی محافلِ موسیقی میں کلاسیکل،نیم کلاسیکل ،پلے بیک سنگر اور فوک گائک ہر سال ایک ساتھ اپنے اپنے فن کا مظاہر ہ کرتے اور آڈیٹوریم میں موجود شائقینِ فن اپنے اپنے ذوق کی تسکین کرتے ۔چند سالوں تک محافلِ موسیقی کا سلسلہ جاری رہا ۔۲/اپریل ۲۰۰۶ء میں شائقینِ فن دوحہ کے بانی ملک مصیب الرحمن اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔ چیئرمین شائقینِ فن دوحہ محمد عتیق نے اپنے تنظیمی ساتھیوں کے مشورے سے۲۰۰۷ء میں ’’مصیب الرحمن میموریل لیکچر‘‘ کا آغاز کیا ۔اِس سالانہ لیکچر میں پہلے سال پاکستان کے نامور دانشورفتح محمد ملک(اسلام آباد) اوردوسرے سا ل معر وف سکالر عبداللہ صاحب(پشاور) نے اپنے پرمغزاور بصیرت افروز لیکچرز سے اہلِ دوحہ کو علمی و ادبی حوالے سے ترفع عطا کیا۔Group Foto۲۰۰۹ء سے بسلسلۂ یومِ پاکستان سالانہ مشاعرہ’’کثیر اللسانی مشاعرہ‘‘ کے نام سے معنون کیا گیا اور ہر سال دوحہ قطر میں موجود پاکستانی شعرأ پاکستان میں بولی جانے والی علاقائی زبانوں میں وطن سے محبت اور اپنے داخلی جذبات و احساسات کا اظہار کرتے ۔گذشتہ سال تک یہ سلسلہ جاری رہا ،اِن ’’کثیر اللسانی مشاعروں‘‘ میں Malik Museeb ur Rehmanاُردو،پنجابی،سندھی،پشتو،بلوچی،سرائیکی،میمنی اور براہوی زبانوں کی شعریات کے ذائقوں سے لطف اندوز ہونے کے مواقع ملے۔
مارچ۲۰۱۶ء میں ملک مصیب الرحمن کی برسی کے موقع پر’’ شائقینِ فن دوحہ‘‘ کی تنظیمِ نو کی گئی اور اِس موقع پر چیئرمین محمد عتیق نے ’’انٹرگلف مشاعرہ‘‘کے انعقادکے لیے چیف آگنائزر فرتاش سیّد کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے ۲۹/اپریل ۲۰۱۶ء کوپہلا انٹرگلف مشاعرہ بمناسبت یومِ پاکستان منعقد کرنے کا عندیہ دیا۔
پاکستان ایمبیسی آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والے شائقینِ فن دوحہ کے اِس پہلے انٹرگلف مشاعرے کی صدارت ابو ظہبی میں مقیم ممتاز شاعر جناب یعقوب تصور ؔ Atiq sahib  Azra Aleemنے کی،مہمانِ خصوصی کمیونٹی ویلفیئر اتاشی جناب راشد نظام (جو سفیرِ پاکستان عزت مآب شہزاد احمد صاحب کی نیابت کر رہے تھے)،جب کہ مہمانانِ اعزازجناب اقبال طارقؔ (بحرین)،جناب ریاض شاہدؔ (بحرین)،جناب احمد عادل ؔ (بحرین) ، محترمہ عذرا ؔ علیم(مسقط) اور جناب محمد صابرؔ (ریاض) تھے۔جن شعرأ نے قطر کی نمائندگی کی اِن میں فرتاشؔ سیّد،محمد شفیق اخترؔ ،شوکت علی نازؔ ، محترمہ فرزانہ ؔ صفدر ، رضا حسین رضاؔ ، محترمہ بشریٰ ؔ عبدالغفور اورراقم الحروف شامل تھے۔
تقریب دو حصوں پر مشتمل تھی،پہلے حصے کی نظامت کے فرائض ’ شائقینِ فن دوحہ‘‘ کے جنرل سیکرٹری فرقان احمد پراچہ نے خوش اسلوبی سے سرانجام دیے۔اُنھوں نے شعرأ کے استقبال کے لیے شریک صدر جاوید ہمایوں اور نائب صدر امین موتی والا کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی اور پھر تالیوں کی گونج میں صاحبِ صدارت اور دیگر مہمان شعرائے کرام کو فرداًفرداً سٹیج پر مدعو کیا۔ محمدشفیق اختر نے تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حاصل کی۔تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد حاضرینِ مجلس نے کھڑے ہو کر بڑے ادب و احترام سے پاکستان اور قطر کے قومی ترانے سماعت کیے۔ 
Ahmad Adil sahib receiving sheildناظمِ تقریب نے عمائدینِ شہر، شعرائے کرام اورقطر کی مختلف ادبی و ثقافتی تنظیموں کے عہدیداران و ذمے داران کو خوش آمدید کہتے ہوئے چیف آرگنائزر فرتاش سیّد کو حرفِ تشکر کے لیے مدعو کیا۔ فرتاش سیّد نے جملہ مہمانانِ گرامی بطورِ خاص مختلف خلیجی ریاستوں سے تشریف لائے ہوئے شعرائے کرام کا فراداً فرداًشکریہ ادا کیا۔انھوں نے دستاویزی وتکنیکی مشکلات کی وجہ سے مشاعرے میں شرکت نہ کرسکنے والے کویت میں مقیم شعرائے کرام جناب صداقت ترمذی،جناب صفدر علی صفدؔ ر اور جناب خالد سجاد احمدکا بھی شکریہ ادا کیا ۔اُنھوں نے کہا کہ انٹرگلف مشاعرے کی کامیابی کاتمام تر کریڈٹ شائقینِ فن دوحہ کے عہدیداران کو جاتا ہے جب کہ کسی بھی طرح کی کمی بیشی و کوتاہی کی ذمے داری میں قبول کرتا ہوں۔اُنھوں نے مزید کہا کہ شعرأمعاشرے کا وہ حساس طبقہ ہیں جو نہ صرف اپنے جذبات و احساسات کو بھرپور انداز میں بیان کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں بلکہ بطریقِ احسن معاشرے کی ترجمانی بھی کرتے ہیں۔ ایک شاعراپنے وطن سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے اپنے داخلی و خارجی احساسات کو اِس خوب صورت انداز میں پیش کرتا ہے کہ وہ ہرفردکا ترجمان و عکاس نظر آتا ہے۔
stage-1چیئرمین محمد عتیق نے کلماتِ اسقبالیہ پیش کرتے ہوئے سفیرِپاکستان عزت مآب شہزاد احمد صاحب،جناب راشد نظام اور خلیج بھر سے مشاعرے میں شرکت کرنے والے جملہ شعرائے کرام کا شکریہ ادا کیا۔اُنھوں نے کہا کہ وطن کی محبت انسان کے خون میں شامل ہوتی ہے اوراِس کی روانی کے لیے ضروری ہے کہ اپنی ثقافت ،کلچر اور ادب کو فروغ دیا جائے ،ہم اسی کارِ خیر کے لیے گذشتہ دو دہائیوں سے مصروفِ عمل ہیں۔اُنھوں نے مزید کہا کہ انتہائی کم وقت میں خوب صورت محفلِ مشاعرہ منعقد کرنے پرمیں فرتاش سیّد اور اُن کی پوری ٹیم کو شاباش دیتا ہوں۔
جناب راشد نظام نے اپنے خطاب میں شائقینِ فن دوحہ کو کامیاب اور شاندار مشاعرہ برپاکرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ عتیق صاحب ،فرتاش صاحب اور اُن کی پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے۔اُنھوں نے مزید کہا کہ سفیرِپاکستان عزت مآب شہزاد احمد صاحب اپنے فرائضِ منصبی کی بجاآوری کے لیے پاکستان میں مصروف ہیں ،میں اُن کی طرف سے بھی آپ کومبارک باد پیش کرتا ہوں۔
جناب راشد نظام نے چیئرمین محمد عتیق، چیف آرگنائزر فرتاش سیّد اور صدورشوکت علی نازؔ اورجاوید ہمایوں کے ہمراہ مہمان شعرائے کرام کی خدمت میں یادگاری شیلڈز پیش کیں۔اِس کے بعداومان سوشل کلب کی ڈائریکٹر محترمہ عذرا علیم نے بھی مہمان شعرائے کرام،مہمانِ خصوصی اور شائقینِ فن دوحہ کے تمام عہدیداران کو سوینئرزاور سکارف پیش کیے۔ 
پہلے حصے کے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے فرقان احمد پراچہ نے پہلے انٹرگلف مشاعرے کا آغاز اپنی ایک نظم سے کر کے شائقینِ مشاعرہ کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا کیونکہ اِس سے پہلے کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ آپ شاعری کا شغف بھی رکھتے ہیں۔مشاعرے کی نظامت کے فرائض قطر کی معروف شاعرہ اور ایف۔ایم( ۱۰۷) اُردو کی خوب صورت آواز محترمہ فرزانہ صفدر اور قیصر مسعود(راقم الحروف ) نے مشترکہ طور پر سرانجام دیے۔Gosha Sameenخوب صورت شاعری،عمدہ نظامت اور شائقینِ مشاعرہ کی بھرپور اور بیدار سماعتوں نے پہلے انٹرگلف مشاعرے کو یاد گار بنادیا۔ شعرأ سے فرمائشوں پر فرمائشیں کی گئیں،لہٰذاشعرا کرام نے جی بھر کر پڑھا اور سامعین نے جی کھول کر دادوتحسین سے نوازا۔ قمرالزمان بھٹی کی سربراہی میں عرفان حیدر،قمر رشید نیاز،فرخ شہزاد اور خواجہ عثمان پر مشتمل شائقینِ فن دوحہ کی انتظامی کمیٹی مشاعرہ گاہ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی تھی۔
حاضرینِ مجلس اپنے پورے وجود کے ساتھ مشاعرے میں شریک رہے۔یہ یادگار مشاعرہ اوّل تاآخر واہ واہ ،سبحان اللہ ،کیا کہنے،بہت عمدہ،بہت اچھا جیسے کلماتِ تحسین کے شور میں رات ۱۲ بجے اختتام پذیر ہوا تو پرتکلف عشائیہ سے شرکائے تقریب کی تواضع کی گئی۔شعرائے کرام کا نمونہ کلام ملاحظہ ہو:
میرِ مشاعرہ جناب یعقوب تصورؔ (ابو ظہبی):
نئے شالے دوشالے دیکھ لینا
یہ جھومر اورجھالے دیکھ لینا
تحائف جب نرالے دیکھ لینا
مرے ہاتھوں کے چھالے دیکھ لینا
جناب فرتاش سیّدؔ (دوحہ):
تم اِس لیے بھی اندھیروں میں رہنا سیکھ گئے 
کہ روشنی کے لیے گھر جلانا پڑتا ہے
برائے گریۂ پیہم، برائے وحشتِ دل
زمینِ سبز کو صحرا بنانا پڑتا ہے
جناب اقبال طارقؔ (بحرین):
باوضو ہوں میں قبلہ رو بھی مگر
بندگی اور چیز ہوتی ہے
ان اندھیروں کو روشنی نہ کہو
روشنی اور چیز ہوتی ہے
جناب ریاض شاہدؔ (بحرین):
جیسا میں نے سوچا ویسا ہوسکتا ہے
تجھ سا میں تو میرے جیسا ہوسکتا ہے
امبر کے اے چاند مجھے اِک بات بتا
جیسا میرا چاند ہے ویسا ہوسکتا
جناب احمد عادلؔ (بحرین):
دستور تھا جو غم کا پرانا بدل گیا
سنبھلے نہ تھے ابھی کہ زمانہ بدل گیا
شکوہ نہیں کہ ساغر و مینا بدل گئے
ٹوٹا خمارِ کیفِ شبانہ بدل گیا
جناب محمد شفیق اخترؔ (دوحہ):
نظامِ کجکلاہی کی یہی تدبیر ہوتی ہے
پسِ زنداں زباں بندی کہیں زنجیر ہوتی ہے
تکبر سے جواکڑے گی وہ گردن ٹوٹ جائے گی
سزا دینے میں قدرت کے ذرا تاخیر ہوتی ہے
محترمہ عذرا علیم (مسقط):
نفسا نفسی کا ایک عالم ہے
سب ہی دامن بچا کے ملتے ہیں
خوب صورت لباس میں اکثر
لوگ خنجر چھپا کے ملتے ہیں
جناب محمد صابر(ریاض):
بپھرا ہوا پھیلے ہوئے منظر پہ گرا دوں
میں آنکھ کے پانی کو سمندر پہ گرا دوں
مہرہ ہے جو ڈرتا ہے شہادت کے سفر سے
پیچھے کو سرکتا ہوا لشکر پہ گرا دوں
جناب شوکت علی نازؔ (دوحہ):
منصبوں کی اب تو ہے تقسیم بس
اہلِ ثروت اور زرداروں کے بیچ
جب کہ ہوں اِک آدمی بیکار سا
کیوں کھڑا ہوں کارمختاروں کے بیچ
قیصرؔ مسعود(راقم الحروف)
سُرلگاتے ہیں، کبھی تال میں آجاتے ہیں
جب تجھے دیکھتے ہیں حال میں آجاتے ہیں
جوگنہ میں نے کیے بھی نہیں ہوتے قیصرؔ 
وہ مرے نامۂ اعمال میں آجاتے ہیں
محترمہ فرزانہؔ صفدر:
تیرا ملنا بڑا ہی مشکل ہے
خواب لیکن بڑا سہاناہے
میں فلک تک چلوں کی ساتھ ترے
تجھ کو بس اِک قدم بڑھانا ہے
جناب رضا حسین رضاؔ :
پیچھے بھاگ نہ دنیا کے تو دنیا ہے فنکار
سب نظروں کا دھوکا ہے یہ رونق یہ بازار
رازِ ترقی ملّا نے سمجھایا ہے سو بار
غافل ہو جا دنیا سے کر بچوں کی بھرمار
محترمہ بشریٰ عبدالغفور: 
میں راہِ محبت پہ چل تو پڑی
اگرچہ یہ آساں نہیں ہے سفر
میں لاغر ہوئی ہوں ترے ہجر میں
سو کر کوئی چارہ مرے چارہ گر
جناب فرقان احمد پراچہ:
یہ نظر میں کتنے سوال ہیں
مرے دل میں کتنے ملال ہیں
مجھے روگ کیسا لگا دیا
مجھے ہنستے ہنستے رلا دیا 


2016-05-18

Share.

About Author

Leave A Reply