سابق وزیراعظم نوازشریف پاکستان پہنچ گئے!

0

نواز شریف

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف آج پیر کی صبح لندن سے پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ محمد نواز شریف لندن میں اپنی اہلیہ کلثوم نواز کی تیمار داری کے لیے گئے تھے۔ سابق وزیراعظم کی اسلام آباد آمد پر بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور لیگی رہنما بھی نواز شریف کا استقبال کرنے ہوائی اڈے پر موجود تھے۔

لندن سے پاکستان کے لیے روانہ ہونے سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا تھا کہ انہوں نے کوئی کرپشن نہیں کی بات اگر پاناما کی تھی تو انہیں اقامہ پر کیوں نکالا گیا۔ اپنی نااہلی کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘فیصلہ بھی انہوں نے دیا اپیل بھی انہوں نے ہی سنی اور نگران جج بھی وہی بن گئے یہ کیسا احتساب ہے؟’ نوازشریف کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کی تیمار داری کے لیے لندن آئے تھے اور ان کا یہیں رہنے اور پاکستان واپس نہ جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

خیال رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے بچوں حسن اور حسین نواز کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی زبانی درخواست مسترد کرتے ہوئے انھیں 26 ستمبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخاب میں ان کی اہلیہ کلثوم نواز نے کامیابی حاصل کی تھی تاہم نواز شریف اور ان کے بچے اس وقت لندن میں کلثوم نواز کو کینسر کی تشخیص کے بعد ان کے علاج کے سلسلے میں لندن گئے تھے۔ سابق وزیراعظم کی میڈیا سے گفتگو سے قبل ان کے صاحبزادے حسین نواز نے بتایا کہ ’نوازشریف نے پاکستان واپس جا کر نیب کورٹ میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میری والدہ کی طبیعت کافی ناساز ہے اور والد کے لیے لندن میں رہنا اس وقت انتہائی ضروری ہے تاہم وہ پاکستان جا کر عدالتوں کا سامنا کریں گے۔ میری والدہ کی صحت میرے والد کے لیے ایک جینون مسئلہ ہے لیکن وہ یہ تاثر قائم نہیں کرنا چاہتے کہ وہ عدالت میں مقدمات کی سماعت میں پیش نہیں ہونا چاہتے۔‘ ذرائع کے اس سوال کے جواب میں کہ ’میاں نوازشریف کب تک واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں، حسین نواز کا کہنا تھا کہ ‘وہ پاکستان میں ہوں گے اور انشا اللہ 26 تاریخ کو کورٹ میں پیش ہوں گے۔‘پاکستان

اس سے قبل سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پولیٹیکل سیکریٹری آصف کرمانی نے عدالت کو بتایا تھا کہ نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ نواز شریف اور ان کے بچے کب وطن واپس آئیں گے۔

نیب عدالت نے پاناما کیس کے حوالے سے تین ریفرنسز میں میاں نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز اور ان کی بیٹی مریم نواز اور ان کے خاوند کیپٹین صفدر کو عدالت میں 19 ستمبر کو طلب کیا تھا۔ یہ سمن بیرونِ ملک قائم آف شور کمپنیوں کے کیس سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ نیب نے احتساب عدالت میں العزیزیہ سٹیل مل اور لندن فلیٹ کے بارے میں بھی ریفرنس جمع کروائے ہیں :-

Share.

About Author

Leave A Reply