رئوف کلاسرا کا کالم کانٹ چھانٹ کے بعد مکمل تبدیل کر دیا جاتا تھا، نوجوان صحافی کا انکشاف

0

syed badar saeed

نوجوان صحافی بدر سعید نے اپنی فیس بک پوسٹ میں انکشاف کیا ہے کہ رئوف کلاسرا صاحب ہمارے سینئر ہیں ۔ اس کے باوجود یہ بھی سچ ہے کہ ان کے خیالات سے کہیں مجھے اتفاق ہوتا ہے اور اکثر نہیں ہوتا ۔ اس سے ان کی سنیارٹی پر تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن بہرحال میں ان کا ہم خیال نہیں ہوں البتہ فین ضرور ہوں ۔ رئوف کلاسرا کی صحافت کئی ایک سے بہتر ہے ۔ ایک نوجوان جس نے صحافت میں قدم رکھا تو دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے پیسے اس کے پاس نہ تھے اور وہ ڈھابے کے چھوٹے کا احسان مند بنا ۔

aks

2007 میں وہی رپورٹر ڈیڑھ لاکھ تنخواہ لیتا تھا ۔ سوال یہ نہیں کہ رئوف کلاسرا  کون ہے  ۔ سوال یہ ہے کہ صحافت کی دیوی ان پر مہربان کیسے ہوتی گئی ۔ میرے پاس ایک ذاتی تجربہ ہے ۔ ان دنوں روزنامہ دنیا کا آغاز ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا ۔ رئوف کلاسرا صاحب اس ادارے کے ایڈیٹر انویسٹی گیشن تھے ہارون الرشید صاحب ایڈیٹوریل ایڈیٹر تھے جبکہ میں روزنامہ دنیا کے ایڈیٹوریل سیکشن کا “چھوٹا”  تھا ۔ مجھے وہاں بطور “چھوٹا”  بھرتی کروانے کی سازش  روزنامہ خبریں ملتان کے سابق ایڈیٹر میاں غفار صاحب کی تھی لیکن وہ سامنے نہیں آئے اور نام ہارون الرشید صاحب کا ہی لگا۔ بہرحال  رئوف کلاسرا صاحب کالم لکھ کر بھجواتے اور فیض بخش صاحب اس کالم کا تیا پانچہ کر دیتے ۔ فیض صاحب پورے پورے جملے کاٹ دیا کرتے تھے اور پھر نئے سرے سے جملہ لکھتے ۔ کئی پیرا گراف تو مکمل کاٹ دیتے ۔ اس کے بعد یہ کالم اسلم کولسری مرحوم کے ہاتھ لگتا ۔

کچھ کانٹ چھانٹ وہ بھی کر دیتے ۔ ہر بار کالم نئے سرے سے کمپوز ہوتا ، غلطیاں لگتیں اور پھر کاٹا جاتا ۔ کالم کے اس پوسٹ مارٹم کے درمیان ایک آدھ “دندی” میں بھی کاٹ لیتا۔  اگلے دن کالم چھپتا تو اس میں جتنا حصہ رئوف کلاسرا صاحب کا ہوتا اس سے کہیں زیادہ فیض بخش صاحب ، اسلم کولسری مرحوم  اور مجھ سمیت دیگر ایڈیٹوریل سٹاف کا بھی ہوتا تھا ۔ جب تک میں وہاں رہا رئوف کلاسرا صاحب کے کالم کے ساتھ اسی طرح زیادتی ہوتی رہی ۔ کبھی کبھار تو میں بھی چلا اٹھتا کہ سر کالم کا تو “ڈنگ”  ہی نکل گیا ہے ۔ فیض صاحب مسکراتے اور کہتے یہ باریکیاں ہی تو آپ نے سیکھنی ہیں ۔ کالم کو توپ  بنانا ہی تو ہمارا کام ہے ۔ لیکن سر یہ کالم تو بھنگی کی توپ بن گیا ہے میں پھر چلاتا ۔ ۔ وہ  مسکراتے اور کہتے:  شاہ جی آپ ابھی نہیں سمجھو گے بس سیکھنے کی کوشش کریں کہ کیوں کاٹا ہے ۔ میں شام کو جاتے وقت کالم کی کٹنگ والے سارے پرنٹ آئوٹ اٹھا کر گھر لے جاتا تھا اور رات بھر اصل کالم اور کانٹ چھانٹ والے کالم کا موازنہ کرتا رہتا ۔ دنیا کی اس ٹیم نے مجھے جو ایڈیٹنگ سکھا دی وہ شاید کہیں اور نہ سیکھ پاتا ۔ مجھے رئوف کلاسرا ان دنوں یا تو بہت لاپرواہ انسان لگتے تھے یا پھر انتہائی بڑے صحافی محسوس ہوتے تھے ۔ جب تک میں وہاں رہا رئوف کلاسرا صاحب  نے کبھی ایڈیٹوریل سیکشن فون کر کے اپنے کالم کا تیا پانچہ کرنے کا شکوہ نہیں کیا۔ وہ چاہتے تو ان کا ایک فون ہی یہ کانٹ چھانٹ کا سلسلہ رکوا سکتا تھا ۔ وہ ہم سے سینئر پوسٹ پر تھے اور مالکان کی ناک کا بال بھی تھے ۔ وہاں تو  کئی سینئر کالم نگار اپنے کالم کا ایک جملہ کٹنے پر طوفان برپا کر دیتے تھے لیکن  رئوف کلاسرا نے کبھی اس “اصلاح” پر شکایت نہپیں کی ۔ یہ صحافت کا وہ سبق تھا جو میں نے رئوف کلاسرا صاحب  سے سیکھا تھا کہ ہر سیکشن کو اپنا کام ہم سے بہتر آتا ہے اگر ترقی کرنی ہے تو کسی دوسرے کے کام میں ذاتی انا کی وجہ سے رکاوٹ نہ ڈالو ۔ لوگوں کو وہی کالم ملتا جو اخبار میں چھپتا تھا ۔ یہ صرف ہم جانتے تھے یا رئوف کلاسرا جانتے تھے کہ انہوں نے کیا لکھا تھا اور کیا چھپا تھا ۔ وہ دس صفحات لکھتے تھے تو اس میں سے ان کے لکھے 4 صفحات ہی شائع ہو پاتے تھے اور وہ بھی نئی حالت میں ۔ ان کی ایڈیٹنگ والے یہ کالم ابھی بھی میرے پاس ہیں ۔ کیونکہ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ۔ وہ تب کئی ایسے نام لکھ دیتے تھے جو ایڈیٹوریل سیکشن کاٹ دیتا تھا ۔ ان میں سے ہر نام ایک بڑا سکینڈل ہوتا تھا جو چھپ جاتا تو طوفان برپا ہو جاتا-

Share.

About Author

Leave A Reply