دہشت گردی کے خطرات تعزیئے نکالنے کی روایت چند خاندانوں تک محدود

0

ستمبر 26, 2017
کراچی

اپنی رائے دیجئے

کراچی بھر سے 414 تعزیے نکالے جائیں گے، جبکہ 20برس قبل یہ تعداد5ہزار سے زائد تھی
قیمتی تعزیے تو ختم کردیئے گئے ہیں کیونکہ اس کے ماہر کاریگر اب بھارتی شہر جودھیور سے نہیں آتے
کراچی( وقائع نگار خصوصی) شہر میں محرم الحرام کے موقع پر تعزیینکالنے کی روایت دم توڑتی جارہی ہے۔ ہر برس محرم الحرام میں دہشت گردی کے خدشات کی وجہ سے یہ روایت ان چند خاندانوں تک محدود ہوگئی ہے جو اپنے بزرگوں کی منت پوری ہونے کے بعد شروع ہونے والی رسم نبھاتے ہوئے تعزیتے نکالتے ہیں۔ آج کل یہ روایت سستے تعزیتے بنا کر پوری کی جارہی ہے۔ یوم عاشور پر کراچی بھر سے414 تعزیتے نکالے جائینگے۔20برس قبل تک بڑے چھوٹے 5ہزار تعزیے نکالے جاتے رہے ہیں۔ قیمتی تعزیوں کو تیار نہ کے جانے کی ایک وجہ بھارتی شہر جودھپور اور راجستھان سے ماہر کاریگروں کا نہ آنا ہے۔ تعزیتے بنانے کیلئے مقامی کے علاوہ سکھر‘ حیدر آباد‘ خیر پور‘ نواب شاہ و میر پور خاص کے کاریگربلائے جاتے ہیں۔ بڑے تعزیتے ایک سے4لاکھ خرچ سے تیار ہوتے ہیں۔20برس پہلے تک تمام تعزیتے مرکزی ماتمی جلوس کے عقب میں ٹاور کی جانب روانہ ہوتے تھے ٹاور کے مقام پر قریب خوبصورت تعزیتے بنانے والوں کو انعام بھی ملتا تھا۔



2017-09-26

Share.

About Author

Leave A Reply