بیرون ملک کالے دھن اور اثاثوں کا سراغ لگانے کیلیے کمپنیوں پر نئی پابندیاں

0

ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ اور دستاویزات نہ رکھنے والوں پر ایک فیصد جرمانہ عائد کیا جائیگا۔ فوٹو : فائل

ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ اور دستاویزات نہ رکھنے والوں پر ایک فیصد جرمانہ عائد کیا جائیگا۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد: ایف بی آرنے پاکستانیوں کے بیرون ممالک کھربوں روپے کے کالے دھن و اثاثہ جات کا سُراغ لگانے کیلیے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور انٹر پرائزز گروپس کیلیے ماسٹر فائل سمیت دیگر ریکارڈ کو لازمی قرار دیدیا ہے۔

ایف بی آرنے پاکستانیوں کے بیرون ممالک کھربوں روپے کے کالے دھن و اثاثہ جات کا سُراغ لگانے کیلیے 10کروڑ روپے سے زائد ٹرن اوور رکھنے والی ملٹی نیشنل کمپنیوں اور انٹر پرائزز گروپس کیلیے ماسٹر فائل سمیت دیگر ریکارڈ کو لازمی قرار دیدیا ہے جبکہ عالمی اثاثے ظاہر نہ کرنیوالی کمپنیوں و ٹیکس دہندگان پردو ہزار روپے یومیہ کے حساب سے جرمانے عائد کیا جائیگااور ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ اور دستاویزات نہ رکھنے والوں پر ایک فیصد جرمانہ عائد کیا جائیگا جبکہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 118کے تحت انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانا ہونگے ہر ٹیکس دہندگان کو 50لاکھ روپے اور اس سے زائد مالیت کی ٹرانزیکشنز سے متعلق تمام لوکل فائلیں اپنے پاس رکھنا ہونگی اور کمشنر ان لینڈ ریونیو کی جانب سے مانگنے پر انہیں فراہم کرنا ہونگی۔

ایف بی آر نے گذشتہ روز باقاعدہ طور پر نوٹیفکیشن 1191(I)/2017 جاری کردیا گیا ہے جس کے تحت انکم ٹیکس رُولز2002 میں ترامیم کرتے ہوئے ڈاکیومنٹیشن اینڈ کنٹری بائی کنٹری رپورٹنگ ریکوائرمنٹ رولز جاری کئے گئے ہیں۔

نوٹیفکیشن میں مزیدکہا گیا ہے کہ پاکستان میں قائم کسی بھی ملٹی نیشنل انٹر پرائزز گروپ کے دس کروڑ روپے سالانہ سے زائد ٹرن اوور رکھنے والے ٹیکس دہندہ قانونی ذیلی ادارے کو ماسٹر فائل کے طور پر اپنا تمام ریکارڈ محفوظ رکھنا ہوگا اور تمام ملٹی نیشنل انٹر پرائزز گروپ کے تمام ممبران کے بارے میں تمام تر معلومات بھی فراہم کرنا ہونگی اوراپنی ملٹی نیشنل انٹر پرائززگروپ کی قانونی ملکیت کا اسٹرکچر بھی بتانا ہوگا کہ اس گروپ کے مالکان کون کون ہیں اور کس کس کا کتنا شیئر ہے ۔

اس کے علاوہ اپنے ملٹی نیشنل انٹرپرائزز گروپ کے تحت چلنے والے اداروں کے جیو گرافیکل لوکیشن بارے بھی معلومات فراہم کرنا ہونگی اسی طرح یہ بھی بتانا ہوگا ملٹی نیشنل انٹر پرائزز گروپ کے کاروبار کی نوعیت کیا ہے اور اس گروپ سے جو منافع لے رہے ہیں انکی تفصیلات سے بھی آگاہ کرنا ہوگا کہ کون کتنا منافع لے رہا ہے اسی طرح گروپ کو اپنی پانچ بڑی پراڈکٹ اور سروسز بارے بھی بتانا ہو گا جبکہ عالمی اثاثے ظاہر نہ کرنیوالی کمپنیوں و ٹیکس دہندگان پردو ہزار روپے یومیہ کے حساب سے جرمانے عائد کیا جائیگا جبکہ ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ اور دستاویزات نہ رکھنے والوں پر ایک فیصد جرمانہ عائد کیا جائیگا۔

Share.

About Author

Leave A Reply