بلیو ویل لاہور پہنچ گئی

0

لاہور: بلیو ویل نامی جان لیوا گیم پاکستان میں بھی اپنی نحوست پھیلانے لگی۔ پنجاب کے FIA سائبر کرائم ڈپارٹمنٹ سے blue whaleخبر ملی ہے کہ انہوں نے لاھور میں ایک 14 سالہ لڑکے کو ٹریک کیا جو اس وحشت بھری گیم کی لت میں تھا۔ یہ بات ثابت نہیں ہو سکی کہ وہ لڑکا خود اس کھیل کو کھیل رہا تھا یا کسی اور طرح اس میں ملوث تھا۔ صرف اتنا پتا چلا کہ ” سنیپ شارٹ میں اغوا کا وڈیو کلپ جس نمبر سے ریلیز ہوا تھا وہ اس لڑکے کے موبایل میں تھا ۔”

FIA سائیبر کرائم ڈپارٹمنٹ کے ترجمان  نے کہا : پاکستان کے لیے انٹر پول نیشنل سینٹر بیورو کو انٹر پول واشنگٹن نے مطلع کیا کہ ان کوملک میں  ایک خود کشی سے جڑی کھیل کھیلے جانے کا سراغ ملا ہے ۔  FIA سائبر کرائم ڈپارٹمنٹ  کے ڈپٹی ڈائریکٹر سید شاہد حسن نے ایک ٹیم تیار کی جس میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد عثمان ، سب انسپیکٹر عاشر آرون، اسسٹنٹ سب انسپکٹر حافظ زبیر اور کانسٹیبل تنویرشامل تھے جنہیں تحقیق کا ٹاسک دیا گیا۔ اس ٹیم نے لاہور کی دو جگہوں گلشن راوی اور جوہرٹاؤن  میں لڑکے کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ جب  GPS کی مدد سے فون کو  ٹریس کیاگیاتو پتہ چلا کہ وہ لڑکا اپنی ماں کا فون استعمال کر رہا تھا۔  سائبر کرائم ڈپارٹمنٹ  نے سیل فون ضبط کر لیا اور 18 اکتوبر کو اسے اور اس کی ماں کو بلایا۔ یاد رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق روس میں 130 نوجوان اس گیم کی وجہ سے اپنی جان دے چکے ہیں۔

گیم آپریٹ کرنے والے انتظامیہ یا گروپ شکار کو 50 دن کے اس گیم کورس میں ساز باز سے پھسا لیتے ہیں۔ شروع میں کھیلنے والوں کو ایسے ٹاسک ملتے ہیں جن کا بظاہر کوئی نقصان نہیں ہوتا جیسے ڈراؤنی فلم دیکھنا، کسے سے پورا دن بات نہ کرنا ، اور صبح کے 3 بجے جانا۔ اس کے بعد زیادہ مشکل ٹاسک شروع ہوتے ہیں جن میں رات بھر جاگنا اور اپنے آپ کو جسمانی نقصان پہنچانا شامل ہوتا ہے۔ گیم کے 50ویں دن گیم سپروائزر گیم پلئیر کو اپنی جان لینے پر اکساتا ہے ۔ پلیئر کو ٹاسک مکمل ہونے کا ویڈیو ثبوت فراہم کرنا پڑتا ہے۔

Share.

About Author

Leave A Reply