اللہ نہ کرے عمران خان ملک کے حکمران بنیں: آصف زرداری

0

نجی ٹی وی کو انٹرویو میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اللہ نہ کرے عمران خان اس ملک کے حکمران بنیں اوراس ملک کے عوام کو عمران خان کو جھیلنا پڑے۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دیکھنا ہوگا نوازشریف کونسی جیل میں جاتے ہیں، میرے بیان کے بعد انہوں نے خوف کے باعث مجھ سے ملاقات نہیں کی تھی۔

انکا کہنا تھا کہ میاں صاحب دس پیغامات بھجوا چکے ہیں لیکن ان سے کوئی بات نہیں ہوئی، نوازشریف کے لنچ کی مجھے پرواہ نہیں تھی، میں پائے نہیں کھاتا، نوازشریف کے ساتھ جب بھی کھانا کھایا اپنی دال روٹی ساتھ لے کر گیا، یہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی لڑائی نہیں مگر نواز شریف بنانا چاہتے ہیں، وہ ملک میں انتشار پھیلانا اور سب کچھ عدلیہ و فوج پر ڈالنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا جیل جانے سے کوئی سیاستدان کمزور نہیں ہوتا، دیکھتے ہیں نوازشریف پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان یا سندھ کی کس جیل میں جاتے ہیں؟

آصف علی زرداری نے کہا چودھری نثار پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتا، فضل الرحمن صاحب میرے پاس آئے تھے تو مولانا صاحب کو کہا اگر آپ ضامن نہیں بن سکتے تو اور کون بنے گا۔

انہوں نے کہا جمہوری نظام میں نا اہل شخص پارٹی کا سربراہ نہیں ہو سکتا، پارلیمانی ترمیم کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

دریں اثنا آصف زرداری 2 روزہ دورے پر پشاورپہنچ گئے جہاں انہوں نے پیپلزپارٹی کے صوبائی صدر ہمایوں خان کی رہائش گاہ پر عہدیداروں سے ملاقات کی اور ضمنی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

اس موقع پر انہوں نے ہدایت کی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے ممکنہ دھاندلی کیخلاف موثراقدامات اٹھائے جائیں۔

انھوں نے پیپلزپارٹی خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر ہمایوں خان کی رہائشگاہ پر پارٹی عہدیداروں سے ملاقات کر کے حلقہ این اے 4 کے ضمنی انتخابات کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔

آصف زرداری نے کہا کہ حکومت کا کام دفاع کرنا ہے فوج پر ملبہ ڈالنا نہیں، میمو گیٹ معاملے کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا، میاں صاحب رنگے ہاتھوں پکڑے گئے وہ خود کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ کے معاملے پر فوج کو ہمیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا، ملکی ترقی کیلیے اداروں کا تحفظ ضروری ہے، ہم کوئی لمیٹڈ کمپنی نہیں کہ دیوالیہ ہو جائیں، موجودہ حالات نواز شریف نے خود پیدا کیے ہیں۔

میرا کام ہے حکومت کادفاع کرنا، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ میں اپنی فوج کو آگے کر دوں کہ اس کا قصور ہے۔ اگر ادارے ٹوٹ گئے تو ملک کو خطرہ جمہوریت کے ٹوٹنے سے زیادہ ہے۔ میرا خیال ہے کہ نواز شریف جا رہے ہیں۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ میاں صاحب چاہتے ہیں کہ ٹکراؤ ہو تاکہ اکانومی بالکل ختم ہو جائے، ہم انتخابی ایکٹ پر عدالت جائیں گے کہ کوئی نااہل شخص جمہوری پارٹی کا صدر نہیں سکتا۔ انھوں نے کہا کہ بی بی کی شہادت پر میں نے اقوام متحدہ سے تحقیقات کروائی، پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ بی بی گاڑی میں کھڑی کیوں ہوئیں، اس طرح تو جان ایف کینڈی بلٹ پروف کار میں ہوتا تو بچ جاتا ، اگر میں نے بی بی کو کہا تھا کہ کھڑی ہو جائیں تو ناہید خان منع کر دیتیں، وہ خود کیوں ساتھ کھڑی نہیں ہوئیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نوازشریف کا پیغام لیکرمیرے پاس آئے تھے، میں نے کہاکہ میں جب بھی نوازشریف سے ملا انھوں نے میری پیٹھ میں چھراگھونپا۔ مولانانے کہاکہ میں نوازشریف کاضامن نہیں بن سکتا تو میں نے ان سے کہاکہ اپ ضامن نہیں بنیں گے توکون بنے گا۔

سابق صدر نے پارٹی عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے ممکنہ دھاندلی کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply