احسان اللہ احسان کو معافی؟ شہید طالبعلم کے والد نے انتہائی قدم اٹھا لیا!

0

جون 16, 2017
اہم ترین

اپنی رائے دیجئے

Image outcome for ‫احسان اللہ احسان‬‎

پشاور -پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی ممکنہ معافی رکوانے اوراس کے خلاف ملٹری کورٹس میں آرمی پبلک سکول کامقدمہ چلانے کےلئے دائر رٹ پر چیف آف آرمی سٹاف ¾ وفاقی سیکرٹری داخلہ ¾ چیف سیکرٹری خیبر پی کے ¾ سیکرٹری دفاع ¾ ڈی جی آئی ایس آئی ¾ سیکرٹری قانون وانصاف و پارلیمانی امورسے جواب طلب کر لیا ہے۔

یہ احکامات عدالت عالیہ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عبد الشکور پر مشتمل دورکنی بنچ نے سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہید طالبعلم صاحبزادہ عمرخان کے والد فضل خان کی جانب سے بیرسٹرعامراللہ چمکنی ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ کی سماعت کرتے ہوئے جاری کئے۔ رٹ میں موقف اختیار کیاگیاہے کہ درخواست گذار کابیٹا صاحبزادہ عمرخان جوآرمی پبلک سکول میں آٹھویں جماعت کاطالبعلم تھا16دسمبر2014ءکو آرمی پبلک سکول پرکالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حملے میں 150دیگربچوں کے ساتھ انتہائی بے دردی سے شہید کیاگیااوراس دن سے درخواست گذار ان متاثرین کو انصاف دلانے کےلئے کوشاں ہے ان کا مزید کہنا ہے کہ واقعہ کے تین سال بعدوقوعہ کے ماسٹرمائنڈاحسان اللہ احسان کی گرفتاری دینے کی خبرسامنے آئی جس سے درخواست گذار سمیت دیگروالدین کو امید کی کرن نظرآئی کہ اب وہ ا نصاف حاصل کرسکیں گے اورسانحہ آرمی پبلک سکول کے ذمہ داروں کے نام سامنے آسکیں گے مگربدقسمتی سے درخواست گذار سمیت تمام والدین کو اس وقت مایوسی کاسامناجب یہ رپورٹس سامنے آئی کہ احسان اللہ احسان کو ایک معصوم اوربھٹکے ہوئے شخص کے طورپرپیش کیاگیا حالانکہ وہ خیبرپی کے میں ہونے والے زیادہ تردہشت گردانہ واقعات کاماسٹرمائنڈ ہے۔ احسان اللہ احسان کو معافی دینے کی اطلاعات سے شکوک وشبہات جنم لے رہے ہیں لہذااحسان اللہ احسان کو معاف کرنے سے روکا جائے اوراس کے خلاف آرمی پبلک سکول کامقدمہ ملٹری کورٹ میں چلایاجائے اورحقائق عوام کے سامنے لائے جائیں :-



2017-06-16

Share.

About Author

Leave A Reply