اثاثہ جات ریفرنس: اسحاق ڈار سے اثاثے منجمند کرنے کی نیب کی درخواست پر جواب طلب

0

وفاقی وزیر خزانہishaq dar اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب کی جانب سے پیش کئے گئے مزید 2 گواہان نے اپنے بیانات قلمبند کرادیے جب کہ پراسیکیوٹر نیب نے ملزم کے اثاثے منجمند کرنے کے فیصلے کی توثیق کے لئے درخواست بھی دے دی۔ 

اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے اسحاق ڈار کے خلاف دائر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے ریفرنس کی سماعت کی۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج ساتویں مرتبہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے، سماعت کے دوران پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق نے اسحاق ڈار کے اثاثے منجمد کرنے کے فیصلے کی توثیق کے لئے درخواست عدالت میں جمع کرائی۔

اس موقع پر پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ چیرمین نیب نے اسحاق ڈار کے اثاثے منجمد کیے ہیں اور استدعا کی کہ اسحاق ڈار کے اثاثے منجمد کرنے کے فیصلے کی توثیق کی جائے۔

عدالت نے نیب کی جانب سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے اثاثے منجمد کرنے کی درخواست پر ان سے جواب آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

نیب کی جانب سے نجی بینک سے تعلق رکھنے والے مزید 2 گواہان عبدالرحمان گوندل اور مسعود غنی کو پیش کیا۔

دونوں گواہان نے آج کی سماعت کے دوران اپنے بیانات قلمبند کرائے اور  اسحاق ڈار کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں جمع کرائیں جس پر وکیل خواجہ حارث نے اعتراضات اٹھائے۔

استغاثہ کے گواہ مسعود غنی نے اسحاق ڈار کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کیں جس میں اکاؤنٹ کھلوانے کا فارم ، ٹرانزیکشنز اور بینک اسٹیٹمنٹ کی تفصیلات شامل تھیں۔

گواہ نے بیان قلمبند کرانے کے دوران کہا کہ نیب کے تفتیشی افسر نادر عباس کو ریکارڈ جمع کرایا ہے۔


اس موقع پر اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے نکتہ اٹھایا کہ نیب کو دی گئیں اور عدالت میں جمع کرائی گئیں دستاویزات میں تضاد ہے، جب اکاونٹ کھولا گیا تنخواہ60ہزار ظاہر کی گئی، اب تنخواہ 50 ہزار ظاہر کی جا رہی ہے۔

استغاثہ کے دوسرے گواہ عبدالرحمان گوندل نے بھی اسحاق ڈار کی پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر ایک نجی بینک اکاؤنٹ اور ٹرانزیکشن کی تفصیلات عدالت کو فراہم کیں جسے عدالت نے ریکارڈ کا حصہ بنادیا۔

اس موقع پر گواہ کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے 25 مارچ 2005 کو بینک اکاؤنٹ کھولا جب کہ 25 مارچ 2005 سے 16 اگست 2017 تک کی بینک اسٹیٹمنٹ نیب کو دے دی ہیں۔

اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث نے نیب کے گواہ پر جرح شروع کی تو ان کا کہنا تھا کہ بینک دستاویزات انہوں نے نہ تو جاری کی اور نہ ہی ان کی موجودگی میں تیار ہوئی جب کہ بینک دستاویزات پر ان کے دستخط بھی نہیں ہیں۔

وکیل خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر کے درمیان مکالمہ

سماعت کے دوران ایک موقع پر پراسیکیوٹر نیب عمران شفیق اور اسحاق ڈار کے وکیل خواجہ حارث کے درمیان 3 بار تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

اس موقع پر خواجہ حارث نے کہا کہ نیب کا رویہ ناقابل برداشت ہے، میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہا ہوں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ گواہ بیان دے رہے ہیں ، اس میں میرا کیا قصور ہے۔

خواجہ حارث نے نیب پراسیکیوٹر کو کہا کہ آپ گواہ پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہ کریں جس پر پراسیکیوٹر نے کہا کہ گواہ عدالت کے سامنے بیان دے رہا ہے کیسے اثر انداز ہو سکتا ہوں۔

خواجہ حارث نے نیب پراسیکیوٹر کو کہا اگر برا نہ منائیں تو گواہ سے پوچھ لوں جس پر انہوں نے کہا کہ میں صرف صفحہ نمبر بتا رہا تھا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ گواہ ماہر بھی ہے اور سمجھدار بھی، یہ پڑھے لکھے گواہ ہیں آپ بے فکر رہیں۔

اسحاق ڈار کی پیشیاں:

وزیر خزانہ اسحاق ڈار آج ساتویں مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، اس سے قبل وہ 25 ستمبر، 27 ستمبر، 4 ، 12، 16 اور 18  اکتوبر کو اثاثہ جات ریفرنس کا سامنا کرنے کے لئے پیش ہوئے۔

اسحاق ڈار کے خلاف نیب ریفرنس پر پہلی سماعت 14 اور دوسری 20 ستمبر کو ہوئی اور ان دونوں سماعتوں پر وہ پیش نہیں ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا ہے۔

سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔

27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم اسحاق ڈار نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔

نیب کی جانب سے پیش کیے گئے گواہان:

نیب کی جانب سے پیش کیے گئے پہلے گواہ اشتیاق علی تھے جن کا تعلق نجی بینک سے ہے جب کہ شاہد عزیز قومی سرمایہ کاری ٹرسٹ اسلام آباد کے ملازم اور طارق جاوید لاہور کے نجی بینک میں افسر ہیں۔

نجی بینک سے تعلق رکھنے والے مسعود غنی اور عبدالرحمان گوندل بھی نیب کی جانب سے پیش ہونے والے گواہان ہیں۔

Share.

About Author

Leave A Reply